Wednesday, October 21, 2020

چھاتی کے سرطان سے آگاہی کا مہینہ

ترقی یافتہ ملک ہویا ترقی پذیز، ہر ملک میں عورتوں میں چھاتی کا سرطان (بریسٹ کینسر)نام سے عام مرض ہے جبکہ تھوڑی  اور درمیانی  درجہ کی آمدن والے ممالک میں اس موذی مرض کا شکار ہونے والی عورتوں کی تعداد میں اضافہ تشویش  کا باعث ہے۔ ان ملکوںمیں چھاتی کے کینسر میں مبتلا زیادہ تر عورتوں کی ابتدائی مرحلے پر پتہ لگانے کے بارے میں شعور کی کمی اور صحت کی خدمات میں رکاوٹوں کی وجہ سے تشخیص دیر سے ہوپاتی ہے۔ سب  عورتوںمیں اوسط عمر کے دوران چھاتی کینسر کا خطرہ 12فیصد  تک پایا جاتا ہے۔


آگاہی کا مہینہ

چھاتی کے سرطان کے سدباب کیلئے دنیا بھر میں ہر سال ماکتوبر  کے مہینے کو چھاتی کےکینسر  سے آگاہی کا مہینہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔  دنیا میں پہلی مرتبہ 90کی دہائی میں چھاتی کے کینسر  سے متعلق عوامی شعور اُجاگر کرنے کیلئے پنک ربن مہم کا آغاز کیا گیا۔  اس مہم کے تحت نیویارک  (امریکہ)میراتھن دوڑ میں شریک خواتین نے پنک ربن پہن کر دوڑ لگائی تھی۔ اس کے بعد نیو یارک میں ایک فلاحی ادارہ تشکیل دیا گیا، جس کا مقصد چھاتی کے سرطان سے متعلق ہونے والی سائنسی تحقیقات اور عوامی سطح پر اس مرض کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کیلئے فنڈزاکٹھے کرناتھا۔ یہ ادارہ ہر سال  چھاتی کے سرطان کے متعلق  آگاہی فراہم کرنے کے لیے اپنے ہم خیال لوگوں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر پنک ربن موٹف  کو استعمال کرتے ہوئے  بھر پور مہم چلاتاہے۔

اس مہم میں حصہ لینے والے اسپانسرز کو بھی پنک ربن  کے استعمال کرنے کی باقائدہ  ترغیب دی جاتی ہے، او مہم کے دوران جمع کیے گئے فنڈز کو چھاتی کے کینسر  کی وجوہات، اس کی تشخیص ، اس کا علاج اور روک تھام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ا س سال  یکم اکتوبر کو ایوانِ صدر پاکستان میں بھی چھاتی کےکینسر کے حوالے سے شعور اُجاگر کرنے کیلئے ایک  پر وقار تقریب منعقد کی گئی تھی۔

چھاتی کا سرطانجسم کے پٹھے  چھوٹے چھوٹے خلیوں سے مل کر بنتے ہیں اور یہی خلیے اگربےقابو انداز میں بڑھنا شروع ہو جائیں اور ایک  جگہ جمع ہوکر ڈھیر بنا لیں،تو یہ مرض سرطان بن جاتا ہے، جسے گلٹی (بریسٹ لمپس)بھی  کہا جاتاہے۔ یہ گلٹی یا رسولی سائز میں آہستہ آہستہ   بڑھ سکتی ہے اور اس کی جڑیں چھاتی میں پھیل جاتی  ہیں، جس کے باعث چھاتی میں درد اور ساخت میں تبدیلی بھی  واقع ہو سکتی ہے۔ چھاتی کے اندر، باہر یا نیچے زخم بڑھ کر بعض اوقات سرطان کی شکل  بھی اختیار کر لیتا ہے۔ مختلف مریض اور مرض کی نوعیت کے مطابق یہ علامات مختلف بھی ہو سکتی ہیں۔

چھاتی میں بننے والی گلٹی کو پولی سسٹک یا فائبرو سسٹک کہا جاتا ہے۔ اس کی شکایت25فیصد خواتین کو زندگی کے کسی بھی  مرحلے میں بھی ہو سکتی ہے، تاہم  ایک اچھی بات یہ   بھی ہے کہ ایسی کئی  قسم کی گلٹیاں کینسر  بننے کا باعث نہیں ہوتیں اور زیادہ تر غیر مضر ہوتی ہیں۔ 

تاہم ان گلٹیوں کی موجودگی میں چھاتی کے سرطان کا خطرہ  بھی بڑھ جاتا ہے۔ چھاتی کاکینسر  بنیادی طور پر زیادہ تر  خواتین کو ہوتا ہےلیکن  کچھ مردوں میں بھی اس سرطان کے خطرات پائے جاتے ہ۔جو کہ بہت  ہی نایاب ہے۔ یہ کینسر انفیکشن نہیں کرتا اور دوسروں میں منتقل  بھی نہیں ہو سکتا۔

دنیا بھر کی صورتِ حال

دنیا بھر میں عورتوں کی کل آبادی کا16فی صد حصہ چھاتی کے کینسر  کا شکار ہے۔ ہر سال دنیا بھر میں چھاتی کا کینسر تقریباً20لاکھ خواتین کو متاثر کرتا ہے، جن میں سے تقریباً 15فیصد عوتیں اس موذی مرض کے وجہ سے موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ ی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ہر9میں سے ایک عورت چھاتی کے کینسر  کے خطرے سے دوچار ہے۔  اگر آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو ایشیائی خواتین میں چھاتی کے سرطان(بریسٹ کینسر) کی شرح پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔ 

 ہمارے ملک (پاکستان)میں ہر سال 90ہزار خواتین میں چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) کی تشخیص ہوتی ہے ۔جبکہ 40ہزار خواتین چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) کے باعث فوت ہوجاتی ہیں۔ پاکستان میں ایک کروڑ سے زائدعورتوں  میں چھاتی کا سرطان ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ عام طور پر یہ مرض ایسی عورتوں میں  بہت کم پایا جاتا ہے، جو بچوں کو 2سال کی عمر تک دودھ پلاتی  رہتی ہیں۔ اگر  ملک میں صحت عامہ کے مناسب پروگرام ترتیب  دے دیے جائیں توچھاتی کے سرطان چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) کے پھیلاؤ کو کم کیا جاسکتا ہے۔

سرطان کی وجوہات

کچھ بنیادی باتیں  بھی ہیں جو چھاتی کے چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر)  کا باعث بنتی ہیں۔عورتوں میں ہارمونز کا غیر متوازن ہونا  بھی چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر)  کی وجوہات میں سے ایک وجہ  ہوسکتا ہے۔ جسم میں ایسٹروجن ہارمون کی زیادتی  بھی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ لڑکیوں کی تاخیر سے شادی یا زائد عمر بچوں  کی پیدائش بھی چھاتی کے سرطان کا  ایک سبب بن جاتی ہے لیکن جو مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی  رہتی ہیں، ان  خواتین میں  بھی چھاتی کے سرطان کی شرح 4فیصد کم ہو جاتی ہے۔ 

تقریباً 10فیصد چھاتی کا سرطان جینیاتی نقائص کی وجہ سے  بھی ہوتاہے، ان نقائص کی حامل خواتین میں اس مرض کے ہونے کے80فیصد امکانات ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ خواتین کا غیرصحت مندانہ طرزِ زندگی اور غیر متوازن خوراک بھی چھاتی کے سرطان کا سبب بن سکتی ہے۔

بچاؤ کے طریقے

چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) کا جلد پتہ چلنا ہی اس مرض  کو روکنے اور علاج  کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) کی بنیادی معلومات سے آگاہ ہوں۔ لہٰذا، اس کیلئے خواتین  کا خودتشخیصی عمل کے بارے میں جاننا بہت  ہی ضروری  ہوتا ہے۔ عورتوں  پہلے گھر میں خود اپنا معائنہ کرنا چاہیے اور کوئی بھی غیر معمولی بات یا تبدیلی محسوس ہونے کی صورت میں فوراً  کسی اچھے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ اگر چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) کا جلد پتہ چل جاتا ہے اور مناسب تشخیص اور علاج دستیاب ہوجائے تو اس بات کے بہت زیادہ امکانات ہوتے ہیں کہ یہ بیماری ٹھیک ہوجائے۔ 

زیادہ دیر  سے پتہ چلنے کی صورت میں اکثر علاج معالجہ آپشن نہیں رہتا۔ ایسے معاملات میں تکلیف کی شدت کو کم کرنے کیلئے مریض کو دوا  دے دی جاتی ہے۔ یہ بات  بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) کیلئے اسکریننگ ٹیسٹ 40 سال کی عمر میں  ہی شروع کیاجاتا ہے، تاہم سالانہ میموگرافی اور چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) کی بروقت تشخیص کے ذریعے اس مرض سے بچا جاسکتا ہے۔ معاشرے میں اس موذی مرض کے حوالے سے جتنی زیادہ آگاہی ہوگی تو عین ممکن ہے کہ اس مرض سے ہونے والی اموات اور مرض کی شرح میں بھی کمی آسکے

No comments:

Post a Comment

چھاتی کے سرطان سے آگاہی کا مہینہ

ترقی یافتہ ملک ہویا ترقی پذیز، ہر ملک میں عورتوں میں چھاتی کا سرطان (بریسٹ کینسر)نام سے عام مرض ہے جبکہ تھوڑی   اور درمیانی   درجہ کی آمدن ...