پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس
(ایکس ڈی ایم جی) گروپ سے تعلق رکھنے والے بہت ہی اچھی ساکھ کے تین سینئر افسران اور
پاکستان پولیس سروس سے تعلق رکھنے والے دوافسران
کو اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل صرف اس لئے
استعفیٰ دینا پڑا کیونکہ موجودہ عمرانی حکومت
نے ان افسران کو مبینہ طور پر ناراض کر
دیا تھا۔ ان میں سے دو افسران، سابق سیکریٹری فنانس یونس ڈھاگا اور سابق ڈی جی ایف
آئی اے بشیر میمن گریڈ 22؍کے آفیسر تھے۔
تیسرے افسر نے حال ہی میں وقت سے پہلے ہی ریٹائرمنٹ لے لی اور اس افسر کا نام
کیپٹن (ر) محمد شعیب ہے جو پولیس سروس کے گریڈ 20؍ کے افسر تھے۔ ایک انتہائی سینئر بیوروکریٹ نے دی نیوز سے بات چیت
کرتے ہوئے کہا کہ یہ موجودہ عمرانی حکومت
کی طرف سے پاکستان کی سول بیوروکریسی میں انتہائی بدترین سیاست کیخلاف یہ سخت احتجاج کی
ایک قسم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سب کچھ شفافیت کی تمام اقدار، قواعد، سول
سروس کی روایات اور اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ یونس ڈھاگا، جو
اس سے قبل سیکریٹری ہاوسنگ، سیکریٹری پاور اور کامرس سیکریٹری کے طور پر بھی کام کر چکے تھے، یونس ڈھاگا کو موجودہ عمرانی
حکومت
نے ہی فنانس سیکریٹری لگایا تھا کیونکہ یونس ڈھاگا کی ساکھ بہت ہی اچھی تھی اور ان میں قابلیت بھی تھی۔ یونس ڈھاگا صاحب پی اے ایس گروپ کے ان چند افسران میں شامل ہیں۔ جن افسران نے سندھ، کے پی، گلگت بلتستان اور وفاقی حکومت میں بھی کام کیا ہے۔ وہ اپنی قابلیت، ساکھ اور ایمانداری کی وجہ سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ انہیں سیکریٹری فنانس لگائے جانے کے چند ہی ہفتوں بعد او ایس ڈی لگا دیا گیا ،اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ آئی ایم ایف (I M F)کے ساتھ بات چیت میں چند معاملات پر سمجھوتے کیلیے بالکل تیار نہ تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان معاملات کا ملک و قوم کی سالمیت اور وقار پر بوجھ پڑتا اور ملک کے غریب عوام کیلئے مسائل اوربڑھ جاتے۔ دی نیوز نے پہلے بھی بتا دیا تھا کہ فنانس سیکریٹری ہونے کے باوجود ڈھاگا صاحب نے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے آخری چند اجلاسوں میں شرکت نہیں کی تھی کیونکہ انہیں عمرانی حکومت کی طرف سے یہ کہا گیا تھا کہ آئی ایم ایف کے نمائندوں کے ساتھ سختی سے پیش نہ آئیں۔یونس ڈھاگا صاحب کو انتہائی غیر شائستہ انداز سے او ایس ڈی بنا دیا گیا تھا۔ بعد میں انہوں نے مایوسی میں استعفیٰ ہی دےدیا کیونکہ ان کے ساتھ عمرانی حکومت نے غیرسنجیدہ پیشہ ورانہ رویہ روا رکھا ہوا تھا۔ اگرچہ ان کی ملازمت کے باقی تین سال رہ گئے تھے لیکن انہوں نے استعفیٰ دے دیا ۔جسے حیران کن طور پر وزیراعظم عمران خان ساحب نے چوبیس گھنٹوں میں منظور کر لیا۔ پاکستان بیوروکریسی کی طے شدہ روایات کا ذکر کرتے ہوئے ایک سینئر سرکاری ملازم نے اس نمائندے کو یہ بھی بتایا کہ سینئر سرکاری ملازمین کا استعفیٰ، جو احتجاجاً جمع کرایا گیا ہو، عموماً اتنی بے حسی اور اتنی جلد بازی میں کبھی بھی منظور نہیں کیا جاتا۔ رخصت پر چلے جانا یا استعفیٰ دینے کو پاکستان سول سروس کے ضابطوں میں احتجاج کا ایک شائستہ اور بہت اچھ انداز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سیاسی آقا عموماً ناراض افسران سے بات چیت کرتے ہیں تاکہ ان کی شکایات کو دور کیا جا سکے۔ لیکن ڈھاگا صاحب کے معاملے میں استعفیٰ برق رفتاری سے منظور کر لیا گیا۔ سابق ڈی جی ایف آئی بشیر میمن صاحب کے استعفے کے معاملے کو بھی پاکستان کی بیوروکریسی میں سیاست زدگی اور اختیارات کا ناجائز استعمال سمجھا جاتا ہے۔ یوٹیوب چینل پر کیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں بشیر میمن صاحب نے خودانکشاف کیا کہ اپنی ملازمت میں انہیں ’’ ملکی اعلیٰ ترین‘‘ دفتر میں طلب کیا گیا اور انہیں کہا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ نون کے سوشل میڈیا ممبران اور خاص کر مریم نواز صاحبہ کیخلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کریں۔ بشیر میمن صاحب نے 20 نومبر 2019 کو استعفیٰ دے دیا یعنی اپنی ریٹائرمنٹ سے صرف چند روز قبل، بشیر میمن صاحب نے یہ اقدام اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلےایف آئی اے سے باہر تبادلہ کیے جانے کیخلاف احتجاجاً کیا۔ سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کو دیے گئے انٹرویو میں بشیر میمن صاحب کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ایک تصویر جاری کی گئی تھی جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس پر دہشت گردی کا کیس درج ہونا چاہئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کسی کی بھی تصویر کا سوشل میڈیا پر جاری ہونا کس طرح دہشت گردی کا کیس بن سکتاہے؟ پاکستان کے قانون میں دہشت گردی کی تشریح واضع تور پر موجود ہے، یہ ایک بالکل نارمل تصویر تھی ۔دہشت گردی کیسے ہوئی؟ جب بشیر میمن صاحب سے سوال کیا گیا کہ دہشت گردی کا کیس درج کرنے کیلئے ان سے کس نے کہا تو بشیر میمن صاحب نے کہا کہ انہیں ملک کے اعلیٰ ترین سرکاری دفتر میں طلب کیا گیا تھا۔ صحافی مطیع اللہ جان نے اشارہ کیا کہ کیا یہ وزیراعظم جناب عمران خان صاحب تھے جنہوں نے انہیں (بشیر میمن صاحب کو) اپنے آفس طلب کیا تھا تو بشیر میمن صاحب نے کوئی نام لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ’’میں آپ سے کہہ رہا ہوں کہ ملک کے اعلیٰ ترین عہدیدار نے طلب کیا تھا۔ ‘ بشیر میمن نے صاحب بتایا،کہ انہوں نے مجھے کہا کہ بی بی مریم نواز صاحبہ کے سوشل میڈیا سیل کیخلاف سخت کارروائی کریں۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا، میں نے یہ پوچھا کہ کس قانون کے تحت انتقامی کاروائی کروں؟ کیونکہ ہمیں تو ملکی قانون کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی ایف آئی اے سے توقعات بالکل پوری ہو رہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں بشیر میمن صاحب نے کہا کہ عمرانی حکومت ایف آئی اے سے توقع کر رہی تھی کہ ایف آئی اے بھی ویسا ہی کرےجیسا نیب کر رہا ہے۔ تاہم، عمرانی حکومت نے بشیر میمن صاحب کے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ یونس ڈھاگا صاحب کی طرح ان کا استعفیٰ بھی قبول کر لیا گیا اور ان کی پنشن بھی روک دی گئی۔ انہوں نے اب اس معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ استعفوں کی اس لہر میں تازہ ترین استعفیٰ کیپٹن (ر) محمد شعیب صاحب کا بھی ہے ۔ کیپٹن (ر) محمد شعیب صاحب اچھی ساکھ کے حامل اور کھرے پولیس والے ہیں۔ کیپٹن (ر) شعیب نے کچھ سال قبل ایف آئی اے کے ایک کرپٹ ڈائریکٹر کیخلاف انکوائری کی تھی جن کا تعلق پی کے پی سے تھا۔اس ڈائریکٹر صاحب کیخلاف انسانی اسمگلنگ اور کرپشن کی تحقیقات ہو رہی تھی۔ ایک یورپی ملک نے باقائدہ حکومت پاکستان کو شکایت کی تھی۔ جس کے نتیجے میں انکوائری ہوئی اور کیپٹن (ر) شعیب صا حب نے تمام تر الزامات درست ثابت کیے حالانکہ کیپٹن (ر) شعیب پر زبردست دبا ئو بھی تھا۔ 2018ء کے الیکشن کے بعد نئی عمرانی حکومت اقتدار میں آئی۔ انکوائری فائل کی گئی اور ملزم ڈائریکٹر کو پنجاب پولیس میں پھر سینئر عہدے پر فائز کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ وزیراعظم عمران خان کو اس کیس کے متعلق بریفنگ بھی دی گئی تھی ۔ اور عمران خان صاحب نے ذاتی طور پر کیپٹن (ر) شعیب کا انٹرویو بھی کیا اور ملزم افسر کیخلاف سخت کارروائی کا حکم بھی دیا تھا۔ لیکن، ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم ڈائریکٹر کیخلاف کچھ بھی نہیں ہوا۔ بلکہ اس کی بجائے اُلٹا انکوائری افسر کیپٹن(ر) شعیب صاحب کو تنگ کیا جانے لگا۔ بہت زبردست اور شاندار سروس ریکارڈ ہونے کے باوجود نہ صرف کیپٹن (ر) شعیب پروموٹ نہیں کیا گیا بلکہ کیپٹن (ر) شعیب کا ٹرانسفر اقوام متحدہ کی پوسٹ پر کرنے سے بھی انکار کر دیا گیا۔ اسی لیے موجودہ حکومت سے ناراض اور مایوس کیپٹن (ر) شعیب نے آخر استعفیٰ دیدیا۔ ایک مرتبہ پھر وزیراعظم صاحب نے فوراً استعفیٰ منظور بھی کر لیا۔ ایک اور سینئر بیوروکریٹ کا کہنا تھا کہ انتہائی ایماندار اور محنتی افسر کو اس طرح تنگ کرنے اور انتقام کانشانہ بنانے کی پاکستان سول بیوروکریسی کی تاریخ اور ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
No comments:
Post a Comment