Wednesday, October 21, 2020

چھاتی کے سرطان سے آگاہی کا مہینہ

ترقی یافتہ ملک ہویا ترقی پذیز، ہر ملک میں عورتوں میں چھاتی کا سرطان (بریسٹ کینسر)نام سے عام مرض ہے جبکہ تھوڑی  اور درمیانی  درجہ کی آمدن والے ممالک میں اس موذی مرض کا شکار ہونے والی عورتوں کی تعداد میں اضافہ تشویش  کا باعث ہے۔ ان ملکوںمیں چھاتی کے کینسر میں مبتلا زیادہ تر عورتوں کی ابتدائی مرحلے پر پتہ لگانے کے بارے میں شعور کی کمی اور صحت کی خدمات میں رکاوٹوں کی وجہ سے تشخیص دیر سے ہوپاتی ہے۔ سب  عورتوںمیں اوسط عمر کے دوران چھاتی کینسر کا خطرہ 12فیصد  تک پایا جاتا ہے۔


آگاہی کا مہینہ

چھاتی کے سرطان کے سدباب کیلئے دنیا بھر میں ہر سال ماکتوبر  کے مہینے کو چھاتی کےکینسر  سے آگاہی کا مہینہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔  دنیا میں پہلی مرتبہ 90کی دہائی میں چھاتی کے کینسر  سے متعلق عوامی شعور اُجاگر کرنے کیلئے پنک ربن مہم کا آغاز کیا گیا۔  اس مہم کے تحت نیویارک  (امریکہ)میراتھن دوڑ میں شریک خواتین نے پنک ربن پہن کر دوڑ لگائی تھی۔ اس کے بعد نیو یارک میں ایک فلاحی ادارہ تشکیل دیا گیا، جس کا مقصد چھاتی کے سرطان سے متعلق ہونے والی سائنسی تحقیقات اور عوامی سطح پر اس مرض کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کیلئے فنڈزاکٹھے کرناتھا۔ یہ ادارہ ہر سال  چھاتی کے سرطان کے متعلق  آگاہی فراہم کرنے کے لیے اپنے ہم خیال لوگوں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر پنک ربن موٹف  کو استعمال کرتے ہوئے  بھر پور مہم چلاتاہے۔

اس مہم میں حصہ لینے والے اسپانسرز کو بھی پنک ربن  کے استعمال کرنے کی باقائدہ  ترغیب دی جاتی ہے، او مہم کے دوران جمع کیے گئے فنڈز کو چھاتی کے کینسر  کی وجوہات، اس کی تشخیص ، اس کا علاج اور روک تھام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ا س سال  یکم اکتوبر کو ایوانِ صدر پاکستان میں بھی چھاتی کےکینسر کے حوالے سے شعور اُجاگر کرنے کیلئے ایک  پر وقار تقریب منعقد کی گئی تھی۔

چھاتی کا سرطانجسم کے پٹھے  چھوٹے چھوٹے خلیوں سے مل کر بنتے ہیں اور یہی خلیے اگربےقابو انداز میں بڑھنا شروع ہو جائیں اور ایک  جگہ جمع ہوکر ڈھیر بنا لیں،تو یہ مرض سرطان بن جاتا ہے، جسے گلٹی (بریسٹ لمپس)بھی  کہا جاتاہے۔ یہ گلٹی یا رسولی سائز میں آہستہ آہستہ   بڑھ سکتی ہے اور اس کی جڑیں چھاتی میں پھیل جاتی  ہیں، جس کے باعث چھاتی میں درد اور ساخت میں تبدیلی بھی  واقع ہو سکتی ہے۔ چھاتی کے اندر، باہر یا نیچے زخم بڑھ کر بعض اوقات سرطان کی شکل  بھی اختیار کر لیتا ہے۔ مختلف مریض اور مرض کی نوعیت کے مطابق یہ علامات مختلف بھی ہو سکتی ہیں۔

چھاتی میں بننے والی گلٹی کو پولی سسٹک یا فائبرو سسٹک کہا جاتا ہے۔ اس کی شکایت25فیصد خواتین کو زندگی کے کسی بھی  مرحلے میں بھی ہو سکتی ہے، تاہم  ایک اچھی بات یہ   بھی ہے کہ ایسی کئی  قسم کی گلٹیاں کینسر  بننے کا باعث نہیں ہوتیں اور زیادہ تر غیر مضر ہوتی ہیں۔ 

تاہم ان گلٹیوں کی موجودگی میں چھاتی کے سرطان کا خطرہ  بھی بڑھ جاتا ہے۔ چھاتی کاکینسر  بنیادی طور پر زیادہ تر  خواتین کو ہوتا ہےلیکن  کچھ مردوں میں بھی اس سرطان کے خطرات پائے جاتے ہ۔جو کہ بہت  ہی نایاب ہے۔ یہ کینسر انفیکشن نہیں کرتا اور دوسروں میں منتقل  بھی نہیں ہو سکتا۔

دنیا بھر کی صورتِ حال

دنیا بھر میں عورتوں کی کل آبادی کا16فی صد حصہ چھاتی کے کینسر  کا شکار ہے۔ ہر سال دنیا بھر میں چھاتی کا کینسر تقریباً20لاکھ خواتین کو متاثر کرتا ہے، جن میں سے تقریباً 15فیصد عوتیں اس موذی مرض کے وجہ سے موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ ی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ہر9میں سے ایک عورت چھاتی کے کینسر  کے خطرے سے دوچار ہے۔  اگر آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو ایشیائی خواتین میں چھاتی کے سرطان(بریسٹ کینسر) کی شرح پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔ 

 ہمارے ملک (پاکستان)میں ہر سال 90ہزار خواتین میں چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) کی تشخیص ہوتی ہے ۔جبکہ 40ہزار خواتین چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) کے باعث فوت ہوجاتی ہیں۔ پاکستان میں ایک کروڑ سے زائدعورتوں  میں چھاتی کا سرطان ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ عام طور پر یہ مرض ایسی عورتوں میں  بہت کم پایا جاتا ہے، جو بچوں کو 2سال کی عمر تک دودھ پلاتی  رہتی ہیں۔ اگر  ملک میں صحت عامہ کے مناسب پروگرام ترتیب  دے دیے جائیں توچھاتی کے سرطان چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) کے پھیلاؤ کو کم کیا جاسکتا ہے۔

سرطان کی وجوہات

کچھ بنیادی باتیں  بھی ہیں جو چھاتی کے چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر)  کا باعث بنتی ہیں۔عورتوں میں ہارمونز کا غیر متوازن ہونا  بھی چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر)  کی وجوہات میں سے ایک وجہ  ہوسکتا ہے۔ جسم میں ایسٹروجن ہارمون کی زیادتی  بھی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ لڑکیوں کی تاخیر سے شادی یا زائد عمر بچوں  کی پیدائش بھی چھاتی کے سرطان کا  ایک سبب بن جاتی ہے لیکن جو مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی  رہتی ہیں، ان  خواتین میں  بھی چھاتی کے سرطان کی شرح 4فیصد کم ہو جاتی ہے۔ 

تقریباً 10فیصد چھاتی کا سرطان جینیاتی نقائص کی وجہ سے  بھی ہوتاہے، ان نقائص کی حامل خواتین میں اس مرض کے ہونے کے80فیصد امکانات ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ خواتین کا غیرصحت مندانہ طرزِ زندگی اور غیر متوازن خوراک بھی چھاتی کے سرطان کا سبب بن سکتی ہے۔

بچاؤ کے طریقے

چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) کا جلد پتہ چلنا ہی اس مرض  کو روکنے اور علاج  کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) کی بنیادی معلومات سے آگاہ ہوں۔ لہٰذا، اس کیلئے خواتین  کا خودتشخیصی عمل کے بارے میں جاننا بہت  ہی ضروری  ہوتا ہے۔ عورتوں  پہلے گھر میں خود اپنا معائنہ کرنا چاہیے اور کوئی بھی غیر معمولی بات یا تبدیلی محسوس ہونے کی صورت میں فوراً  کسی اچھے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ اگر چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) کا جلد پتہ چل جاتا ہے اور مناسب تشخیص اور علاج دستیاب ہوجائے تو اس بات کے بہت زیادہ امکانات ہوتے ہیں کہ یہ بیماری ٹھیک ہوجائے۔ 

زیادہ دیر  سے پتہ چلنے کی صورت میں اکثر علاج معالجہ آپشن نہیں رہتا۔ ایسے معاملات میں تکلیف کی شدت کو کم کرنے کیلئے مریض کو دوا  دے دی جاتی ہے۔ یہ بات  بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) کیلئے اسکریننگ ٹیسٹ 40 سال کی عمر میں  ہی شروع کیاجاتا ہے، تاہم سالانہ میموگرافی اور چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) کی بروقت تشخیص کے ذریعے اس مرض سے بچا جاسکتا ہے۔ معاشرے میں اس موذی مرض کے حوالے سے جتنی زیادہ آگاہی ہوگی تو عین ممکن ہے کہ اس مرض سے ہونے والی اموات اور مرض کی شرح میں بھی کمی آسکے

Saturday, October 10, 2020

ریاست مدینہ کے حکمران ایسا کرتے ہیں؟

پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس (ایکس ڈی ایم جی) گروپ سے تعلق رکھنے والے  بہت ہی اچھی ساکھ کے تین سینئر افسران اور پاکستان  پولیس سروس سے تعلق رکھنے والے دوافسران کو اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل صرف  اس لئے استعفیٰ دینا پڑا کیونکہ موجودہ  عمرانی حکومت نے ان  افسران کو مبینہ طور پر ناراض کر دیا تھا۔ ان میں سے دو افسران، سابق سیکریٹری فنانس یونس ڈھاگا اور سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن گریڈ 22؍کے آفیسر  تھے۔ تیسرے افسر نے حال ہی میں وقت سے پہلے ہی ریٹائرمنٹ لے لی اور اس افسر کا نام کیپٹن (ر) محمد شعیب ہے جو پولیس سروس کے گریڈ 20؍ کے افسر تھے۔ ایک  انتہائی سینئر بیوروکریٹ نے دی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ موجودہ  عمرانی حکومت کی طرف سے پاکستان کی  سول بیوروکریسی میں  انتہائی بدترین سیاست کیخلاف یہ سخت احتجاج کی ایک قسم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سب کچھ شفافیت کی تمام اقدار، قواعد، سول سروس کی روایات اور اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ یونس ڈھاگا، جو اس سے قبل سیکریٹری ہاوسنگ، سیکریٹری پاور اور کامرس سیکریٹری کے طور پر  بھی کام کر چکے تھے، یونس ڈھاگا کو موجودہ عمرانی حکومت

نے  ہی فنانس سیکریٹری لگایا تھا کیونکہ یونس ڈھاگا کی ساکھ بہت  ہی اچھی تھی اور ان میں قابلیت بھی تھی۔ یونس ڈھاگا صاحب پی اے ایس گروپ کے ان  چند افسران میں شامل ہیں۔ جن افسران  نے سندھ، کے پی، گلگت بلتستان اور وفاقی حکومت میں بھی  کام کیا ہے۔ وہ اپنی قابلیت، ساکھ اور ایمانداری کی وجہ سے  جانے پہچانے جاتے ہیں۔ انہیں سیکریٹری فنانس لگائے جانے کے چند ہی ہفتوں بعد او ایس ڈی لگا دیا گیا ،اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ آئی ایم ایف (I M F)کے ساتھ بات چیت میں چند معاملات پر سمجھوتے کیلیے  بالکل تیار نہ تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان معاملات کا ملک و قوم کی سالمیت اور وقار پر بوجھ پڑتا اور ملک کے غریب عوام کیلئے مسائل  اوربڑھ جاتے۔ دی نیوز نے  پہلے بھی بتا دیا تھا کہ فنانس  سیکریٹری ہونے کے باوجود ڈھاگا صاحب  نے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے آخری چند اجلاسوں میں شرکت نہیں کی تھی کیونکہ انہیں عمرانی حکومت کی طرف سے یہ کہا گیا تھا کہ آئی ایم ایف کے نمائندوں کے ساتھ سختی سے پیش نہ آئیں۔یونس ڈھاگا صاحب کو  انتہائی  غیر شائستہ انداز سے او ایس ڈی بنا دیا گیا تھا۔ بعد میں انہوں نے مایوسی میں استعفیٰ  ہی دےدیا کیونکہ ان کے ساتھ عمرانی حکومت نے غیرسنجیدہ  پیشہ ورانہ رویہ روا رکھا ہوا تھا۔ اگرچہ ان کی ملازمت کے باقی تین سال رہ گئے تھے لیکن انہوں نے استعفیٰ  دے دیا ۔جسے حیران کن طور پر وزیراعظم  عمران خان ساحب نے چوبیس گھنٹوں میں منظور کر لیا۔  پاکستان بیوروکریسی کی طے شدہ روایات کا ذکر کرتے ہوئے ایک سینئر سرکاری ملازم نے اس نمائندے کو یہ بھی  بتایا کہ سینئر سرکاری ملازمین کا استعفیٰ، جو احتجاجاً جمع کرایا گیا ہو، عموماً اتنی بے حسی اور  اتنی جلد بازی میں کبھی بھی منظور نہیں کیا جاتا۔ رخصت پر  چلے جانا یا استعفیٰ دینے کو  پاکستان سول سروس کے ضابطوں میں احتجاج کا ایک شائستہ  اور بہت اچھ انداز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سیاسی آقا عموماً ناراض افسران سے بات چیت کرتے ہیں تاکہ ان کی شکایات کو دور کیا جا سکے۔ لیکن ڈھاگا  صاحب کے معاملے میں استعفیٰ برق رفتاری سے منظور کر لیا گیا۔ سابق ڈی جی ایف آئی بشیر میمن صاحب کے استعفے کے معاملے کو بھی پاکستان کی  بیوروکریسی میں سیاست زدگی اور اختیارات کا ناجائز استعمال سمجھا جاتا ہے۔ یوٹیوب چینل پر کیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں بشیر میمن صاحب نے   خودانکشاف کیا کہ اپنی ملازمت میں انہیں ’’ ملکی اعلیٰ ترین‘‘ دفتر میں طلب کیا گیا اور انہیں کہا گیا کہ  پاکستان مسلم لیگ نون کے سوشل میڈیا ممبران اور خاص کر مریم نواز  صاحبہ کیخلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کریں۔ بشیر میمن صاحب نے 20 نومبر 2019 کو استعفیٰ  دے دیا یعنی اپنی ریٹائرمنٹ سے صرف چند روز قبل، بشیر میمن صاحب نے یہ اقدام اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلےایف آئی اے سے باہر تبادلہ کیے جانے کیخلاف احتجاجاً کیا۔  سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کو دیے گئے انٹرویو میں بشیر میمن صاحب کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ایک تصویر جاری کی گئی تھی جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس پر دہشت گردی کا کیس درج ہونا چاہئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کسی کی  بھی تصویر کا سوشل میڈیا پر جاری ہونا کس طرح دہشت گردی کا کیس بن سکتاہے؟  پاکستان  کے قانون میں دہشت گردی کی تشریح  واضع تور پر موجود ہے، یہ ایک  بالکل نارمل تصویر تھی ۔دہشت گردی کیسے ہوئی؟ جب بشیر میمن صاحب سے سوال کیا گیا کہ دہشت گردی کا کیس درج کرنے کیلئے ان سے کس نے کہا تو بشیر میمن صاحب نے کہا کہ انہیں ملک کے اعلیٰ ترین سرکاری دفتر میں طلب کیا گیا تھا۔ صحافی مطیع اللہ جان نے اشارہ کیا کہ کیا یہ وزیراعظم  جناب عمران خان  صاحب تھے جنہوں نے انہیں (بشیر میمن  صاحب کو)  اپنے آفس طلب کیا تھا تو بشیر میمن صاحب نے کوئی نام لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ’’میں آپ سے کہہ رہا ہوں کہ  ملک کے اعلیٰ ترین عہدیدار نے طلب کیا تھا۔ ‘ بشیر میمن نے  صاحب بتایا،کہ انہوں نے مجھے کہا کہ  بی بی مریم نواز  صاحبہ کے سوشل میڈیا سیل کیخلاف  سخت کارروائی کریں۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا، میں نے یہ پوچھا کہ کس قانون کے تحت انتقامی کاروائی کروں؟ کیونکہ ہمیں  تو ملکی قانون کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی ایف آئی اے سے توقعات  بالکل پوری ہو رہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں بشیر میمن صاحب نے کہا کہ عمرانی حکومت ایف آئی اے سے توقع کر رہی تھی کہ ایف آئی اے بھی ویسا ہی کرےجیسا نیب کر رہا ہے۔ تاہم، عمرانی حکومت نے بشیر میمن صاحب کے ان  الزامات کو مسترد کیا ہے۔ یونس ڈھاگا  صاحب کی طرح ان کا استعفیٰ  بھی قبول کر لیا گیا اور ان کی پنشن بھی روک دی گئی۔ انہوں نے اب اس معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ استعفوں کی اس  لہر میں تازہ ترین استعفیٰ کیپٹن (ر) محمد شعیب صاحب  کا  بھی ہے ۔ کیپٹن (ر) محمد شعیب صاحب اچھی ساکھ کے حامل اور کھرے پولیس والے ہیں۔ کیپٹن (ر) شعیب نے کچھ سال قبل ایف آئی اے کے ایک  کرپٹ ڈائریکٹر کیخلاف انکوائری کی تھی جن کا تعلق پی کے پی سے تھا۔اس ڈائریکٹر صاحب  کیخلاف انسانی اسمگلنگ اور کرپشن کی تحقیقات ہو رہی تھی۔ ایک یورپی ملک نے  باقائدہ حکومت پاکستان کو شکایت کی تھی۔ جس کے نتیجے میں انکوائری ہوئی اور کیپٹن (ر) شعیب صا حب نے تمام تر الزامات  درست ثابت کیے حالانکہ کیپٹن (ر) شعیب پر زبردست دبا ئو بھی  تھا۔ 2018ء کے الیکشن کے بعد نئی  عمرانی حکومت اقتدار میں آئی۔ انکوائری فائل کی گئی اور ملزم ڈائریکٹر کو پنجاب پولیس میں پھر  سینئر عہدے پر فائز کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ وزیراعظم عمران خان کو  اس کیس کے متعلق بریفنگ  بھی دی گئی تھی ۔ اور  عمران خان صاحب نے ذاتی طور پر کیپٹن (ر) شعیب کا انٹرویو  بھی کیا اور ملزم افسر کیخلاف سخت کارروائی کا حکم   بھی دیا تھا۔ لیکن، ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم  ڈائریکٹر کیخلاف کچھ  بھی نہیں ہوا۔  بلکہ اس کی بجائے اُلٹا انکوائری افسر کیپٹن(ر) شعیب صاحب  کو تنگ کیا جانے لگا۔ بہت  زبردست اور شاندار سروس ریکارڈ ہونے کے باوجود نہ صرف کیپٹن (ر) شعیب پروموٹ نہیں کیا گیا بلکہ کیپٹن (ر) شعیب کا ٹرانسفر اقوام متحدہ کی پوسٹ پر کرنے سے بھی انکار کر دیا گیا۔  اسی لیے موجودہ حکومت سے ناراض اور مایوس کیپٹن (ر) شعیب نے  آخر استعفیٰ دیدیا۔ ایک مرتبہ پھر  وزیراعظم  صاحب نے فوراً استعفیٰ منظور بھی  کر لیا۔ ایک  اور سینئر بیوروکریٹ کا کہنا تھا کہ  انتہائی ایماندار اور محنتی افسر کو اس طرح تنگ کرنے اور  انتقام کانشانہ بنانے کی  پاکستان سول بیوروکریسی کی تاریخ اور ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

Monday, October 5, 2020

The real story of Shahbaz Sharif's arrest.

میاںشہباز شریف کو آمدنی سے زیادہ اثاثے اور منی لانڈرنگ کے اس کیس میں ابھی پہلی


بار ہی ضمانت
قبل از گرفتاری ضمانت ملی تھی،تو نیب نے اُسے وقت  بڑے فخر سےاعلان کر دیا کہ  جیسے ہی  ضمانت منسوخ ہوگی میاں محمدشہباز شریف کو گرفتار کر لیا جائے گا۔اس کے بعد آئندہ سماعت کی مختلف تاریخوں میں اُن کو توسیع ملتی رہی  لیکن  ہر  بارپیشی پر  لاہور ہائی کورٹ کے باہر حسب معمول شہباز شریف کی گرفتاری کی تیاری مکمل ہوتی تھی،تاہم  گرفتار کرنے کی نوبت پیر کے روز آئی۔ سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جا رہا تھا ،کہ اب اپوزیشن  کےبڑےرہنماؤں کی گرفتاریاں ضرور  ہوں گی،

ایسا ہی ہوا اور پھر سب سے پہلی گرفتاری میاں محمد شہباز شریف کی ہی ہوئی ہے ۔اس پرآصف علی زرداری نے اپناردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب ہم سب لوگ اندر ہوں گے۔اس کے بعد مولانا فضل الرحمٰن کو بھی نیب نے طلب کر لیاہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتاہے۔اِس سے پہلے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو سندھ ہائی کورٹ نے گرفتاری سے قبل ضمانت دیتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھاتھا کہ  سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف نیب کے ریفرنس کا مقصد شاہد خاقان عباسی کی زبان  بند کرنا ہے۔اس سے قبل خواجہ برادران کے کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان بھی کچھ ایسا ہ ہی کہہ چکی ہے کہ نیب صرف ایک طرفہ کارروائی کر رہا ہے۔  سپریم کورٹ نے نیب کےپراسیکیوٹر اور  نیب کےتفتیشی افسر سے یہ سوال  کیا کہ حکومتی پارٹی کے خلاف ابھی تک کتنے  نیب ریفرنس فائل کئے گئےہیں؟ لیکن نیب کے حکام اور نیب پراسیکیوٹر اس سوال کا  کوئی جواب نہیں دے سکے،

 ملکی اعلیٰ عدالتیں کئی بار ایسے ریمارکس دے چکی ہیں ،کہ تفتیش کے مرحلے میں   ملزم کی گرفتاری بالکل غیرضروری ہے ۔لیکن اِن فیصلوں اور ریمارکس کے باوجود  نیب  کی طرف سے سیا سی  انجینیئرنگ  کےلیے گرفتاریاں جاری ہیں۔  قائد حزب اختلاف   میاں محمد شہباز شریف کی موجودہ گرفتاری بھی اسی کی  ایک مثال ہے،عام خیال یہ  بھی ہے اور کئی وفاقی وزراء اور خاص کر  شیخ رشید بھی بار بار یہ بات کہتے رہتے ہیں کہ  میاں نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف صاحب کے سیاسی خیالات ایک جیسے  نہیں ہیں۔ میاں محمد شہباز شریف اپنے بڑے بھائی  نواز شریف کے برعکس مفاہمت کی سیاست  کرناچاہتے ہیں،یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ(ن) دوحصوں میں بٹ جائے گی ۔ایک حصہ میاں نواز شریف کی سیاست کرے گا اور شہباز شریف کی قیادت میں ایک اور نئی مسلم لیگ بن جائے گی۔لیکن اگر واقعی ایساہوتا  ہے تو پھر ایک سوال یہ بھی  ہے کہ کیا میاں محمدشہباز شریف کی سیاسی گرفتاری کے بعد مفاہمت کا جذبہ باقی رہے گا یا نہیں؟ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے تو  یہ بھی کہہ دیا ہے کہ میاں محمد شہباز شریف کو اِس لئے گرفتار کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے بڑے بھائی   میاں نواز شریف کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی شیخ رشید کی زبان پہ (نون اور شین) کی گردان جاری ہے۔نیب کی عدالتوں  میں سیاسی رہنماؤں کے خلاف جو مقدمات چل رہے ہیں۔ اُن میں سے ابھی تک 2مقدمات کے فیصلے ہوئے  ہیں ،ایک فیصلہ کرنے والے جج یہاں تک تسلیم کر چکے  ہیں ،کہ اْن پر فیصلے کے لئے  بہت دباؤ تھا۔ اُ س جج  صاحب کی وڈیو بھی بہت کچھ کہہ رہی ہے۔اور وہ  جج ساحب اب برطرف بھی ہو چکےہیں ۔لیکن  ان کا کیا ہوا فیصلہ ابھی بھی  برقرار ہے، جو کئی سوالات اٹھا رہا ہے،۔ایسے فیصلے اگر صرف ملکی  عدالتوں ہی میں زیر بحث ہوتے تو  پھر بھی ایک بات تھی۔لیکن جس طرح  سے  سیاسی ملزموں کا میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے ،وہ اپنی جگہ سب کو نظر آ رہاہے۔ 

نالائق حکومتی   وزراء کی ناکلائق ٹیمیں ہر روز شام کو  میڈیا پر عدالتی فیصلوں پر من پسند تبصرے کرتی  رہتی ہیں۔ اور اگر کوئی دوسرا ان پر اپنا  اظہارِ خیال کردےتو اُن نالائق  وزرا کو زرا بھی پسند نہیں آتا اور  وہ فوراً  توہین، توہین کا راگ الاپنے لگ جاتے ہیں،  حکومتی وزرا کے اس طرزِ عمل نے یہ فضا پیدا کر دی ہے کہ حکومت اپوزیشن  کے سب لوگوںکو چوروں اور ڈاکوؤں کا ٹولہ کہہ رہی ہے، اور اپوزیشن جماعتیں حکومت کو سلیکٹڈ،نالائق اور دھاندلی کی پیداوار قرار دے رہی ہیں۔ 

نتیجہ یہ ہے کہ   جماعتوں میں سیاسی تقسیم کی خلیج بہت بڑھ گئی ہے اور آنے والے دِنوں میں اس میں کمی زرا بھی کمی ہوتی نظرنہیں آ رہی۔

اپوزیشن جماعتیں حکومت پرالزام لگاتی ہیں کہ احتساب کے نام پر انتقام لیا جا رہا ہے،اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف تو مقدمات بنائے جا رہے ہیں، لیکن جن معاملات کا تعلق حکومت سے ہے، اُن پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ 

یہ بات قابل توجہ ہے کہ احتساب کے ادارے کا سارا زور  صرف اپوزیشن رہنماؤں کو گرفتار کرنےپر ہی کیوں ہے ؟جومقدمات بنائے جا رہے ہیں ،وہ صرف اپوزیشن کے خلاف ہی کیوں بن رہے ہیں۔ 

حکومت کے اپنے جواسکینڈل سامنے آ رہے ہیں اُن میں کسی کو گرفتار کیوں  نہیں کیا جا رہا؟۔ ایک وفاقی وزیر اور اُن کے بھائی کے خلاف کرپشن اسکینڈل کی تحقیقات شروع کی گئی تھیں  لیکن روک لی گئیں۔ 

مالم جبہ، بلین ٹری سونامی اور بی آر ٹی پشاور کے معاملات  بھی پُراسرار طور پر دبا دیے گئےہیں ،یہاں تک کہ عمرانی جماعت کے خلاف فارن فنڈنگ کی جو تحقیقات ہو رہی ہیں، اُن میں بھی  جان بوجھ کر تاخیر کی جا رہی ہے عمرانی جماعت کے خلاف فارن فنڈنگ کاالزام ایک ایسے شخص نے لگایا ہے ،جو پارٹی کا بنیادی رکن اور بہی خواہ بھی ہے۔ 

یہ تمام امور اِس بات کی 100فیصد گواہی   دیتے ہیں کہ احتساب یک طرفہ اور سلیکٹڈ  ہی ہے۔ اور اگر یہ احتساب بلاتفریق ہو رہا ہوتا تو عمرانی حکومتی پارٹی کے جو لوگ گرفتار ہوئے تھے چند ہفتوں کے بعد انہیں بھی   کلین چٹ نہ ملتی ۔اسی لئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی گرفتاری کو اے پی سی کا نتیجہ قرار  دے رہی  ہے تو اس میں  ضرورکچھ نہ کچھ صداقت  بھی تو ہو گی۔

دوسری جانب  عمرانی پیمرا نے مسلم لیگ (ن )کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد  نواز شریف کی تقریر نشر کرنے پر بھی  پابندی عائد کر دی ہے۔اس سے قبل پچھلے سال کرنل (ر) انعام الرحمٰن نے پیمرا سے کہا تھا کہ مشرف اور طاہر القادری  بھی تو مفرور ہیں ان کےانٹرویو  بھی بند کرائے جائیں تو پیمرا نے جواب میں کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 19کے تحت ہر شہری کو آزادیٔ اظہار حاصل ہے ۔لیکن  میاں نواز شریف  صاحب کے معاملے پر پیمرا کو آرٹیکل 19 ہی بھول گیاہے۔ پاکستان میں میڈ یا آزاد نہیں یہ بیانیہ آج اپنی موت آپ مر گیاہے۔ 

چھاتی کے سرطان سے آگاہی کا مہینہ

ترقی یافتہ ملک ہویا ترقی پذیز، ہر ملک میں عورتوں میں چھاتی کا سرطان (بریسٹ کینسر)نام سے عام مرض ہے جبکہ تھوڑی   اور درمیانی   درجہ کی آمدن ...