Monday, October 5, 2020

The real story of Shahbaz Sharif's arrest.

میاںشہباز شریف کو آمدنی سے زیادہ اثاثے اور منی لانڈرنگ کے اس کیس میں ابھی پہلی


بار ہی ضمانت
قبل از گرفتاری ضمانت ملی تھی،تو نیب نے اُسے وقت  بڑے فخر سےاعلان کر دیا کہ  جیسے ہی  ضمانت منسوخ ہوگی میاں محمدشہباز شریف کو گرفتار کر لیا جائے گا۔اس کے بعد آئندہ سماعت کی مختلف تاریخوں میں اُن کو توسیع ملتی رہی  لیکن  ہر  بارپیشی پر  لاہور ہائی کورٹ کے باہر حسب معمول شہباز شریف کی گرفتاری کی تیاری مکمل ہوتی تھی،تاہم  گرفتار کرنے کی نوبت پیر کے روز آئی۔ سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جا رہا تھا ،کہ اب اپوزیشن  کےبڑےرہنماؤں کی گرفتاریاں ضرور  ہوں گی،

ایسا ہی ہوا اور پھر سب سے پہلی گرفتاری میاں محمد شہباز شریف کی ہی ہوئی ہے ۔اس پرآصف علی زرداری نے اپناردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب ہم سب لوگ اندر ہوں گے۔اس کے بعد مولانا فضل الرحمٰن کو بھی نیب نے طلب کر لیاہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتاہے۔اِس سے پہلے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو سندھ ہائی کورٹ نے گرفتاری سے قبل ضمانت دیتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھاتھا کہ  سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف نیب کے ریفرنس کا مقصد شاہد خاقان عباسی کی زبان  بند کرنا ہے۔اس سے قبل خواجہ برادران کے کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان بھی کچھ ایسا ہ ہی کہہ چکی ہے کہ نیب صرف ایک طرفہ کارروائی کر رہا ہے۔  سپریم کورٹ نے نیب کےپراسیکیوٹر اور  نیب کےتفتیشی افسر سے یہ سوال  کیا کہ حکومتی پارٹی کے خلاف ابھی تک کتنے  نیب ریفرنس فائل کئے گئےہیں؟ لیکن نیب کے حکام اور نیب پراسیکیوٹر اس سوال کا  کوئی جواب نہیں دے سکے،

 ملکی اعلیٰ عدالتیں کئی بار ایسے ریمارکس دے چکی ہیں ،کہ تفتیش کے مرحلے میں   ملزم کی گرفتاری بالکل غیرضروری ہے ۔لیکن اِن فیصلوں اور ریمارکس کے باوجود  نیب  کی طرف سے سیا سی  انجینیئرنگ  کےلیے گرفتاریاں جاری ہیں۔  قائد حزب اختلاف   میاں محمد شہباز شریف کی موجودہ گرفتاری بھی اسی کی  ایک مثال ہے،عام خیال یہ  بھی ہے اور کئی وفاقی وزراء اور خاص کر  شیخ رشید بھی بار بار یہ بات کہتے رہتے ہیں کہ  میاں نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف صاحب کے سیاسی خیالات ایک جیسے  نہیں ہیں۔ میاں محمد شہباز شریف اپنے بڑے بھائی  نواز شریف کے برعکس مفاہمت کی سیاست  کرناچاہتے ہیں،یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ(ن) دوحصوں میں بٹ جائے گی ۔ایک حصہ میاں نواز شریف کی سیاست کرے گا اور شہباز شریف کی قیادت میں ایک اور نئی مسلم لیگ بن جائے گی۔لیکن اگر واقعی ایساہوتا  ہے تو پھر ایک سوال یہ بھی  ہے کہ کیا میاں محمدشہباز شریف کی سیاسی گرفتاری کے بعد مفاہمت کا جذبہ باقی رہے گا یا نہیں؟ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے تو  یہ بھی کہہ دیا ہے کہ میاں محمد شہباز شریف کو اِس لئے گرفتار کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے بڑے بھائی   میاں نواز شریف کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی شیخ رشید کی زبان پہ (نون اور شین) کی گردان جاری ہے۔نیب کی عدالتوں  میں سیاسی رہنماؤں کے خلاف جو مقدمات چل رہے ہیں۔ اُن میں سے ابھی تک 2مقدمات کے فیصلے ہوئے  ہیں ،ایک فیصلہ کرنے والے جج یہاں تک تسلیم کر چکے  ہیں ،کہ اْن پر فیصلے کے لئے  بہت دباؤ تھا۔ اُ س جج  صاحب کی وڈیو بھی بہت کچھ کہہ رہی ہے۔اور وہ  جج ساحب اب برطرف بھی ہو چکےہیں ۔لیکن  ان کا کیا ہوا فیصلہ ابھی بھی  برقرار ہے، جو کئی سوالات اٹھا رہا ہے،۔ایسے فیصلے اگر صرف ملکی  عدالتوں ہی میں زیر بحث ہوتے تو  پھر بھی ایک بات تھی۔لیکن جس طرح  سے  سیاسی ملزموں کا میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے ،وہ اپنی جگہ سب کو نظر آ رہاہے۔ 

نالائق حکومتی   وزراء کی ناکلائق ٹیمیں ہر روز شام کو  میڈیا پر عدالتی فیصلوں پر من پسند تبصرے کرتی  رہتی ہیں۔ اور اگر کوئی دوسرا ان پر اپنا  اظہارِ خیال کردےتو اُن نالائق  وزرا کو زرا بھی پسند نہیں آتا اور  وہ فوراً  توہین، توہین کا راگ الاپنے لگ جاتے ہیں،  حکومتی وزرا کے اس طرزِ عمل نے یہ فضا پیدا کر دی ہے کہ حکومت اپوزیشن  کے سب لوگوںکو چوروں اور ڈاکوؤں کا ٹولہ کہہ رہی ہے، اور اپوزیشن جماعتیں حکومت کو سلیکٹڈ،نالائق اور دھاندلی کی پیداوار قرار دے رہی ہیں۔ 

نتیجہ یہ ہے کہ   جماعتوں میں سیاسی تقسیم کی خلیج بہت بڑھ گئی ہے اور آنے والے دِنوں میں اس میں کمی زرا بھی کمی ہوتی نظرنہیں آ رہی۔

اپوزیشن جماعتیں حکومت پرالزام لگاتی ہیں کہ احتساب کے نام پر انتقام لیا جا رہا ہے،اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف تو مقدمات بنائے جا رہے ہیں، لیکن جن معاملات کا تعلق حکومت سے ہے، اُن پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ 

یہ بات قابل توجہ ہے کہ احتساب کے ادارے کا سارا زور  صرف اپوزیشن رہنماؤں کو گرفتار کرنےپر ہی کیوں ہے ؟جومقدمات بنائے جا رہے ہیں ،وہ صرف اپوزیشن کے خلاف ہی کیوں بن رہے ہیں۔ 

حکومت کے اپنے جواسکینڈل سامنے آ رہے ہیں اُن میں کسی کو گرفتار کیوں  نہیں کیا جا رہا؟۔ ایک وفاقی وزیر اور اُن کے بھائی کے خلاف کرپشن اسکینڈل کی تحقیقات شروع کی گئی تھیں  لیکن روک لی گئیں۔ 

مالم جبہ، بلین ٹری سونامی اور بی آر ٹی پشاور کے معاملات  بھی پُراسرار طور پر دبا دیے گئےہیں ،یہاں تک کہ عمرانی جماعت کے خلاف فارن فنڈنگ کی جو تحقیقات ہو رہی ہیں، اُن میں بھی  جان بوجھ کر تاخیر کی جا رہی ہے عمرانی جماعت کے خلاف فارن فنڈنگ کاالزام ایک ایسے شخص نے لگایا ہے ،جو پارٹی کا بنیادی رکن اور بہی خواہ بھی ہے۔ 

یہ تمام امور اِس بات کی 100فیصد گواہی   دیتے ہیں کہ احتساب یک طرفہ اور سلیکٹڈ  ہی ہے۔ اور اگر یہ احتساب بلاتفریق ہو رہا ہوتا تو عمرانی حکومتی پارٹی کے جو لوگ گرفتار ہوئے تھے چند ہفتوں کے بعد انہیں بھی   کلین چٹ نہ ملتی ۔اسی لئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی گرفتاری کو اے پی سی کا نتیجہ قرار  دے رہی  ہے تو اس میں  ضرورکچھ نہ کچھ صداقت  بھی تو ہو گی۔

دوسری جانب  عمرانی پیمرا نے مسلم لیگ (ن )کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد  نواز شریف کی تقریر نشر کرنے پر بھی  پابندی عائد کر دی ہے۔اس سے قبل پچھلے سال کرنل (ر) انعام الرحمٰن نے پیمرا سے کہا تھا کہ مشرف اور طاہر القادری  بھی تو مفرور ہیں ان کےانٹرویو  بھی بند کرائے جائیں تو پیمرا نے جواب میں کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 19کے تحت ہر شہری کو آزادیٔ اظہار حاصل ہے ۔لیکن  میاں نواز شریف  صاحب کے معاملے پر پیمرا کو آرٹیکل 19 ہی بھول گیاہے۔ پاکستان میں میڈ یا آزاد نہیں یہ بیانیہ آج اپنی موت آپ مر گیاہے۔ 

No comments:

Post a Comment

چھاتی کے سرطان سے آگاہی کا مہینہ

ترقی یافتہ ملک ہویا ترقی پذیز، ہر ملک میں عورتوں میں چھاتی کا سرطان (بریسٹ کینسر)نام سے عام مرض ہے جبکہ تھوڑی   اور درمیانی   درجہ کی آمدن ...